|
کراچی/اسلام
آباد(
اسٹاف
رپورٹر+نمائندگان
)پاکستان
میں نویں
پارلیمانی
انتخابات
کے لیے
گذشتہ
روز ہونے
والی
پولنگ کے
نتیجے
میں رات
ساڑھے
تین بجے
تک موصول
ہونے
والے
نتائج کے
مطابق
پنجاب
میں مسلم
لیگ (ن)
،سندھ
میں
پاکستان
پیپلز
پارٹی
اور سرحد
میں اے
این پی کی
برتری
سامنے
آئی ہے
اور (ق)لیگ
کا صفایا
ہو
گیا،جبکہ
کراچی
میں
متحدہ کو
سبقت
حاصل
ہے،تفصیلات
کے مطابق
قومی
اسمبلی
میں
پاکستان
پیپلز
پارٹی
پارلیمنٹیرینز
نے28، مسلم
لیگ (ن)نے 22،مسلم
لیگ(ق)نے8،متحدہ
قومی
موومنٹ
نے17آزاد
امیدواروں
نے 10،اے
این پی نے 6جبکہ
پیپلز
پارٹی
شیر پاؤ
نے ایک
نشست
حاصل
کی،قومی
اسمبلی
میں پی پی
نے32، (ن)
لیگ نے 31،ایم
کیو ایم
نے17،آزاد
امیدواروں
نے 13، (ق)لیگ
نے10،اے
این پی نے 7جبکہ
پی پی شیر
پاؤ اور
مجلس عمل
نے ایک
نشست
جیتی
،کراچی
سے فاروق
ستار،
خوش بخت
شجاعت
کامیاب
ہو
گئے،جبکہ
پرویز
الہی ،
فضل
الرحمن
بھی
اسمبلی
میں پہنچ
گئے۔دوسری
جانب
سندھ
اسمبلی
میں ایم
کیو ایم
نے37،پی پی
نے35،ق لیگ
نے5،ف لیگ
نے 2،اے
این پی نے 2اورنیشنل
پیپلز
پارٹی
ایک نشست
پر
کامیاب
ہوئی،پنجاب
میں ن لیگ
اورسرحد
میں اے
این پی نے
برتری
حاصل
کی۔غیر
سرکاری
نتائج کے
مطابق
متحدہ
قومی
موومنٹ
کے فہیم
احمد نے
پی ایس 64میرپور
خاص سے
کامیابی
حاصل کی
انہوں نے32ہزار
ووٹ حاصل
کئے
،جبکہ ان
کے حریف
نوید
بلند کو 14ہزار
25ووٹ
ملے۔جبکہ
متحدہ
قومی
موومنٹ
کے شیخ
صلاح
الدین نے
قومی
اسمبلی
کے حلقہ
این اے 244سے
ایک لاکھ 47ہزار
سے زائد
ووٹ حاصل
کر کے 1990میں
متحدہ کے
ہی
امیدوار
محمد
اسلم کے
ایک لاکھ 43ووٹوں
کا
ریکارڈ
توڑ
دیا،شیخ
صلاح
الدین کا
حلقہ
واٹر پمپ
،فیڈرل
بی ایریا
،نئی
کراچی
اور بفر
زون پر
مشتمل
تھا۔متحدہ
قومی
موومنٹ
کے ذرائع
کے مطابق
کراچی
قومی
اسمبلی
کی 20نشستوں
میں سے
ایم کیو
ایم کو 17نشستوں
پر برتری
حاصل
ہے،فاروق
ستار بھی
اپنی
نشست بھی
جیت گئے
ہیں
ذرائع نے
مزید
بتایا کہ
کراچی کی
صوبائی
کی 42نشستوں
میں سے
ایم کیو
ایم کو 36نشستوں
پر واضح
بر تری
حاصل ہے ،4نشستوں
پر انہیں
شکست
ہوئی ہے
اور 2نشستوں
پر رات
گئے تک
گنتی کا
عمل جاری
تھا۔سکھر
میں قومی
اسمبلی
کی 2اور
صوبائی
اسمبلی
کی 4نشستوں
پر
پاکستان
پیپلزپارٹی
کے
امیدواروں
نے آخری
اطلاعات
آنے تک
مخالف
امیدواروں
پر
نمایاں
برتری
قائم
رکھی
ہوئی
تھی، این
اے 198پر
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
نعمان
اسلام
شیخ کو 44ہزار
753جبکہ ان
کے
مقدمقابل
مسلم لیگ(ق)
کے سید
طاہر
حسین شاہ
کو 10ہزار 395،
این اے 199پر
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
سید
خورشیداحمد
شاہ نے 52ہزار
جبکہ ان
کے
مقدمقابل
مہرگروپ
کے تاج
محمد شیخ
نے 16ہزار،
پی ایس Iپر
پیپلزپارٹی
کے ڈاکٹر
نصراللہ
بلوچ نے 27ہزار،
ان کے
مدمقابل
متحدہ
قومی
موومنٹ
کے سعید
اقبال
ملک نے 14ہزار،
پی ایسIIIپر
پیپلزپارٹی
کے جام
سیف اللہ
دھاریجو
نے 17ہزار 272جبکہ
ان کے
مدمقابل
مسلم لیگ(ق)
کے حاجی
خان چاچڑ
نے8 ہزار400،
پی ایس IVپر
پیپلزپارٹی
کے سید
جاوید
شاہ نے 39ہزار
42ووٹ جبکہ
ان کے
مدمقابل
مسلم لیگ
فنکشنل
کے سید
زاہد شاہ
نے 13ہزار351ووٹ
حاصل کیے
تھے، یہ
تمام
نتائج
مختلف
امیدواروں
کے
انتخابی
دفاتر سے
حاصل کیے
گئے ہیں۔
تمام
نشستوں
پر ابھی
بعض
پولنگ
اسٹیشنوں
کے نتائج
آنا باقی
تھے جبکہ
سکھر میں
آخری
اطلاعات
آنے تک
کسی بھی
نشست پر
کامیاب
امیدوار
کا اعلان
نہیں
ہوسکا
تھا۔ ضلع
حیدرآباد
کی 4
تحصیلوں
کی 52 یونین
کونسلوں
پر مشتمل
قومی
اسمبلی
کی 3 اور
صوبائی
اسمبلی
کی 6
نشستوں
میں سے
متحدہ
قومی
موومنٹ
کو 2 قومی
اور 4
صوبائی
اسمبلی
کی
نشستوں
اور
پاکستان
پیپلز
پارٹی
پارلیمنٹرین
کو ایک
قومی
اسمبلی
اور 2
صوبائی
اسمبلیوں
کی
نشستوں
پر واضح
اکثریت
حاصل
تھی۔پی
ایس 86ٹھٹھہ
3پر مسلم
لیگ (ق )شیرازی
گروپ کے
سید شاہ
حسین شاہ
چالیس
ہزار چھ
سو اڑسٹھ
لے کر
کامیاب
ہو گئے
ہیں اور
ان کے
مخالف
امیدوار
پی پی کے
سید
مسعود
مصطفی
شاہ نے
اٹھائیس
ہزار
تیرانوے
ووٹ حاصل
کئے،حلقہ
پی ایس 28نوابشاہ
5کے132پولنگ
اسٹیشنوں
میں سے 130پولنگ
اسٹیشنوں
کے غیر
سرکاری
نتائج کے
مطابق پی
پی کے
امیدوار
سردار
جام
تماچی
انٹرنے 28ہزار
ووٹ جبکہ
ان کے
حریف ق
لیگ کے
امید وار
ڈاکٹر
بہادر
ڈائری نے 11ہزار
47ووٹ حاصل
کئے ۔نو
شہرو
فیروز
حلقہ این
اے 211سے
نیشنل
پیپلز
پارٹی کے
امیداوار
غلام
مصطفیٰ
خان
جتوئی نے 38ہزار
205ووٹ حاصل
کر کے
کامیابی
حاصل کر
لی ،غیر
سرکاری
نتائج کے
مطابق ان
کے مد
مقابل
ذوالفقار
علی بیہن
نے 7ہزار 669ووٹ
حاصل
کئے،این
اے 232 دادو
ون‘ ٹوٹل
پولنگ
اسٹیشن 256
میں 111
پولنگ
اسٹیشنوں
کے نتائج
حاصل
ہوئے
ہیں۔جن
کے مطابق
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
رفیق
احمد
جمالی نے 43
ہزار ووٹ
لئے ہیں
جبکہ
مسلم لیگ (ق)
کے لیاقت
جتوئی نے 13
ہزار ووٹ
حاصل کئے
ہیں۔ پی
ایس 74 دادو
ون‘ ٹوٹل
پولنگ
اسٹیشن 116
ہیں جن
میں سے 85
پولنگ
اسٹیشنوں
کے نتائج
موصول
ہوئے ہیں‘
نتائج کے
مطابق
پاکستان
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
پیرمظہرالحق
نے 31 ہزار 47
ووٹ حاصل
کئے جبکہ
مسلم لیگ (ق)
کے
محمدشاہ
نے 5 ہزار 747
ووٹ حاصل
کئے۔ پی
ایس 75 دادو
ٹو‘ ٹوٹل
پولنگ
اسٹیشن 119
ہیں‘ 45
پولنگ
اسٹیشنوں
کے نتائج
موصول
ہوئے ہیں
جس میں
پاکستان
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
غلام شاہ
جیلانی
نے 16 ہزار 813
ووٹ حاصل
کئے‘ مسلم
لیگ (ق) کے
امیدوار
ڈاکٹر
بندے علی
لغاری نے 7
ہزار 874 ووٹ
حاصل کئے
ہیں۔ این
اے 233 دادو
ٹو‘ ٹوٹل
پولنگ
اسٹیشن 289
ہیں جس
میں 171
پولنگ
اسٹیشنوں
کے نتائج
ملے ہیں
جس میں
پاکستان
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
ڈاکٹر
طلعت
میہر نے 30
ہزار 995 ووٹ
حاصل کئے
جبکہ
مسلم لیگ (ق)
کے احسان
علی
جتوئی نے 20
ہزار 471 ووٹ
حاصل کئے۔
پی ایس 77
دادو 4‘ 124
ٹوٹل
پولنگ
اسٹیشنوں
میں سے 102
پولنگ
اسٹیشنوں
کے نتائج
موصول
ہوئے ہیں۔
پاکستان
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
فیاض
احمد بھٹ 30
ہزار 200 ووٹ
اور
پاکستان
مسلم لیگ (ق)
کے
امیدوار
صداقت
علی
جتوئی نے 16
ہزار ووٹ
حاصل کئے
ہیں۔ٹنڈوجام
کیصوبائی
اسمبلی
کے حلقہ
پی ایس 50
ٹنڈوجام
سے
پیپلزپارٹی
کے نامزد
امیدوار
پیر امجد
حسین شاہ
جیلانی 55954
ووٹ حاصل
کرکے
پانچویں
مرتبہ
رکن سندھ
اسمبلی
منتخب
ہوگئے
ہیں۔
قومی
اسمبلی
کے حلقہ
این اے 221
پر
پاکستان
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
سیدامیر
علی شاہ
جاموٹ نے
121576 ووٹ
حاصل
کرکے
کامیابی
حاصل
کرلی
ہے۔این
اے 214 سکرنڈ
میں پی پی
پی کے
امیدوار
سید غلام
مصطفی
شاہ 84529 اور
مسلم لیگ
ق کے خان
محمد
ڈاہری نے
39575 ووٹ
حاصل
کئے،صوبائی
اسمبلی
کے حلقہ
پی ایس 66
میرپورخاص
تھری کی
نشست پر
پاکستان
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
میر حاجی
حیات خان
تالپور 42499
ووٹ حاصل
کرکے
کامیاب
ہوگئے۔ضلع
بدین میں
پی پی پی
کلین
سوئپ کے
قریب
آگئی ہے‘
اس سلسلے
میں پی
ایس 59 اور
پی ایس 58 پر
پی پی پی
امیدواروں
نے
زبردست
کامیابی
حاصل
کرلی
جبکہ
دیگر
نشستوں
پر بھی پی
پی پی
امیدواروں
کو واضح
اکثریت
حاصل ہے۔
ضلع
لاڑکانہ
اور ضلع
قمبر
شہدادکوٹ
میں قومی
اسمبلی
کی 4 اور
صوبائی
اسمبلی
کی 8
نشستوں
پر
پیپلزپارٹی
کے
امیدواروں
کو واضح
سبقت
حاصل
ہوگئی ہے
اور رات
گئے تک
ملنے
والے غیر
سرکاری
نتائج کے
مطابق پی
پی (شہید
بھٹو) کی
سربراہ
غنویٰ
بھٹو‘
سندھ
نیشنل
فرنٹ کے
چیئرمین
ممتازبھٹو
کے
صاحبزادے
امیربخش
بھٹو‘
ضلعی
ناظم
قمبر
شہدادکوٹ
نواب
شبیراحمد
چانڈیو
کے دونوں
صاحبزادے
سردار
خان
چانڈیو
اور
برہان
خان
چانڈیو‘
سابق
صوبائی
وزیر
حاجی
الطاف
انڑ اور
سابق
وزیراعلیٰ
سندھ
ڈاکٹر
ارباب
غلام
رحیم کے
مشیر
سلطان
احمد
کھاوڑ
شکست سے
دوچار
ہوچکے
ہیں۔ ضلع
نوشہروفیروز
کی قومی
اسمبلی
کی 2 اور
صوبائی
اسمبلی
کی 5
نشستوں
پر
انتخابات
مکمل
ہوگئے
ہیں اور
آخری
اطلاعات
کے مطابق
اس ضلع
میں این
اے 211 پر
این پی پی
کے
امیدوار
غلام
مرتضیٰ‘
این اے 212
پر پی پی
پی کے سید
ظفرشاہ‘
پی ایس 19 پر
عارف
مصطفی
جتوئی‘
این پی پی‘
پی ایس 20 پر
پی پی پی
کے
عبدالحق
بھرٹ‘ پی
ایس 21 پر پی
پی پی کے
ڈاکٹر
احمدعلی
شاہ‘ پی
ایس 22 پر پی
پی پی کے
ڈاکٹر
عبدالستار
راجپر
اور پی
ایس 23 پر
این پی پی
کے سرور
احمد
جتوئی
بھاری
اکثریت
سے جیت
رہے
تھے۔پی
ایس 85
ٹھٹھہ ٹو
کے
غیرسرکاری
نتائج کے
مطابق
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
سابق رکن
صوبائی
اسمبلی
سسئی
پلیجو نے
دوبارہ
اپنی
نشست جیت
لی
ہے۔کشمور
میں پی
ایس 18 پر
پاکستان
مسلم لیگ (ق)
کے
امیدوار
میر غالب
حسین
ڈومکی نے
28376 ووٹ
لیکر
کامیابی
حاصل
کرلی۔ضلع
نواب شاہ
میں قومی
اسمبلی
کی 2/ ا ور
صوبائی
اسمبلی
کی 4/
نشستوں
پر پی پی
پی کے
امید وا
روں کو
مخالف
امید
واروں پر
واضع
سبقت
حاصل ہے
نو اب شاہ
حلقہ این
اے 213 نواب
شاہ I کی کل
307 پولنگ
اسٹیشنوں
میں سے 257/
پولنگ
اسٹیشنوں
کے غیر
حتمی
نتائج کے
مطابق
پیپلزپارٹی
کی امید و
ار اور
آصف
زرداری
کی بہن
ڈاکٹر
عذرا فضل
پیچوہو
نے 94103 ووٹ
حاصل کئے
جبکہ ان
کے
مدمقابل
فنکشنل
لیگ کے
امیدوا ر
سید زاہد
حسین شاہ
نے 38600 ووٹ
حاصل کئے
حلقہ این
اے 214/ نواب
شاہ 2کی 312
پولنگ
اسٹیشنوں
میں سے 300/
پولنگ
اسٹیشنوں
کے غیر
حتمی
نتائج کے
مطابق پی
پی پی کے
امید وار
سید غلام
مصطفی
شاہ نے 89210ووٹ
جبکہ ان
کے مخالف
امید وار
ق لیگ کے
سردار
خان محمد
ڈاہری نے
41000 ووٹ
حاصل کئے
نواب شاہ
کے حلقہ
پی ایس 24
نوا ب شاہ
پر ایم
کیو ایم
کے امید و
ار
عبدالرشید
بھیا اور
پیپلزپارٹی
کے طا رق
مسعود
آرائیں
کے
درمیان
ون ٹو ون
مقابلہ
جاری ہے
حلقہ پی
ایس 24 نواب
شاہ 2/ کی کل
119/ پولنگ
اسٹیشنوں
میں سے 90/
پولنگ
اسٹیشنوں
کے غیر
حتمی
نتائج کے
مطابق پی
پی پی کے
احمد علی
جلبانی
نے 32200 ووٹ
جبکہ ان
کے مخالف
مسلم لیگ
ق کے
امیدوا ر
علی نو از
بروہی نے
8500 ووٹ
حاصل کئے
حلقہ پی
ایس نو اب
شاہ 3 کی کل
130 پولنگ
اسٹیشنوں
میں سے 85
پولنگ
اسٹیشنوں
کے غیر
حتمی
نتائج کے
مطابق پی
پی پی کے
امید وار
سید فصیح
احمد شاہ
نے 22056 ووٹ
جبکہ ان
کے
مدمقابل
ق لیگ کے
امیدوار
ممتاز
علی
جمالی نے
12113 ووٹ
حاصل کئے
حلقہ پی
ایس 27 نواب
شاہ 4 کے 126
پولنگ
اسٹیشنوں
میں 115
پولنگ
اسٹیشنوں
کے غیر
حتمی
نتائج کے
مطابق
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
غلام قا
در
چانڈیو
نے 43537ووٹ
ان کے
مخالف ق
لیگ کے
امیدوار
عبدالحفیظ
انڑ نے 10695
ووٹ حاصل
کئے۔
دادو میں
پی ایس 74 کی
نشست پر
پی پی کے
امیدوار
پیر مظہر
الحق نے 31
ہزار 47 ووٹ
حاصل کئے
جبکہ ق
لیگ کے
محمد شاہ
نے 5 ہزار 774
ووٹ حاصل
کئے۔
دادو میں
پی ایس 75 کی
نشست پر
پی پی کے
امیدوار
غلام شاہ
جیلانی 16
ہزار 831 ووٹ
حاصل کئے۔
دادو میں
این اے 233
کی نشست
پر پی پی
کے
امیدوار
ڈاکٹر
طلعت
مہیسر نے 30
ہزار 995ووٹ
حاصل کئے
جبکہ ق
لیگ کے
احسان
علی
جتوئی نے 20
ہزار 471 ووٹ
حاصل کئے۔
دادو میں
پی ایس 77
میں پی پی
کے
امیدوار
فیاض
احمد بھٹ
نے 30 ہزار 200
ووٹ لئے
جبکہ ق
لیگ کے
صداقت
علی
جتوئی نے 16
ہزار ووٹ
حاصل کئے۔
ٹنڈو جام
میں پی
ایس 50 میں
پی پی کے
امیدوار
امجد
حسین شاہ
جیلانی 55
ہزار 954 ووٹ
لئے جبکہ
ق لیگ کے
امیدوار
میر شیر
محمد
تالپور
نے 5 ہزار 4سو
ووٹ حاصل
کئے۔
ٹنڈو جام
میں این
اے 221 پر پی
پی کے
امیدوار
امیر علی
شاہ
جاموٹ نے
ایک لاکھ21
ہزار 576 ووٹ
جبکہ ق
لیگ کے
امیدوار
شہاب
الدین
شاہ نے 36
ہزار ووٹ
حاصل کئے۔
سکرنڈ
میں این
اے 214 پر پی
پی کے سید
غلام
مصطفی
شاہ نے 84
ہزار 529 ووٹ
جبکہ ق
لیگ کے
خان محمد
ڈاہری نے 39
ہزار 575 ووٹ
حاصل کئے۔
میر پور
خاص میں
پی ایس 66 پر
پی پی کے
امیدوار
حاجی
حیات خان
تالپور 42
ہزار 449 ووٹ
جبکہ ق
لیگ کے
میر وقار
تالپور
نے 12 ہزار 162
ووٹ حاصل
کئے۔
بدین میں
پی پی
کلین
سوئیپ کے
قریب
آگئی۔ پی
ایس 59 پر
نواز
چانڈیو
کی جانب
سے 23 ہزار 90
ووٹ حاصل
کرنے پر
پی پی کی
کامیابی
کی خوشی
میں بدین
کے مختلف
حلقوں
میں
ریلیاں
نکالی
گئیں۔ پی
ایس 58 پر پی
پی کے
ڈاکٹر
سکندر
مندھرو
نے 48 ہزار 44
ووٹ حاصل
کئے اور
اپنے
مخالف
امیدوار
سائیں
بخش
جمالی کی
ضمانت
ضبط
کرادی۔
این اے 225
سے پی پی
کی بیگم
فہمیدہ
مرزا نے ق
لیگ کی بی
بی
یاسمین
شاہ پر
واضح
اکثریت
حاصل کی
ہوئی تھی۔
لاڑکانہ
میں این
اے 204 پر پی
پی کے
امیدوار
شاہد
بھٹو 56
ہزار 359 ووٹ
حاصل
کرکے
غنویٰ
بھٹو پر
واضح
اکثریت
حاصل
کرچکے
ہیں۔
نوشہرو
فیروز
میں این
اے 211 پر
این پی پی
کے
امیدوار
غلام
مرتضیٰ
این اے 212
پر سید
ظفر شاہ،
پی ایس 19 پر
عارف
مصطفیٰ
جتوئی،
پی ایس 20 پر
عبدالحق
بُھرٹ،
پی ایس 21 پر
احمد علی
شاہ، پی
ایس 22 پر
ڈاکٹر
ستار
راجپر
اور پی
ایس 23 پر
سرور
احمد
جتوئی
بھاری
اکثریت
سے جیت
رہے تھے۔
کشمور
میں ق لیگ
کے غالب
حسین
ڈومکی نے
کامیابی
حاصل
کرلی ہے۔
کراچی کے
حلقے این
اے 248میں
پیپلز
پارٹی کے
نبیل
گبول 96ہزار
ووٹ حاصل
کر کے
کامیاب
ہو گئے ان
کے مد
مقابل
متحدہ
قومی
موومنٹ
کے وصی
اللہ
لاکھو نے4ہزار
6سو ووٹ
حاصل
کئے،ٹنڈو
محمد خان
NA-222 سے
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
سید نوید
قمر نے 230/
پولنگ
اسٹیشنوں
میں سے 96/
پولنگ
اسٹیشنز
میں سے 40134/
ووٹ حاصل
کئے ہیں
ان کے
مقابلہ
میں مسلم
لیگ (ق) کے
پیر سجاد
ج ان سرہن
دی نے 10032
ووٹ حاصل
کئے۔ِPS-53
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
سید محسن
شاہ
بخاری نے 37/
پولنگ
اسٹیشنوں
میں 15273
جبکہ مس
لم لیگ (ق)
کے امید
وار م یر
علی نواز
ٹالپر نے
4397 ووٹ
حاصل
کئے۔خیرپور
میں این
اے 215کے
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
ن واب خان
وسان، پی
ایس 29 کے
پیپلزپارٹی
کے امیدو
ار سید
قائم علی
شا ہ، پی
ایس 32 کے
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
منظور
حسین
وسان، پی
ایس 33 کے
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
پیر احمد
رضا شاہ
اور پی
ایس 34 کے
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
نعیم
احمد
کھرل
بھاری
اکثریت
سے جیت
رہے تھے،
نو اب خان
وسان کا
مقابلہ
فنکشنل
مسلم لیگ
کے سید
جاوید
علی شاہ
کے ساتھ،
سید قائم
علی شاہ
کا
مقابلہ
فنکشنل
مسلم لیگ
کے ظفر
اقبال
بلال،
منظور
حسین
وسان کا
مقابلہ
فن کشنل
مسلم لیگ
کے پیر
صدرالدین
شاہ، پیر
احمد رضا
شاہ کا
مقابلہ
فنکشنل
مسلم لیگ
کے پیر
فیاض
حسین شاہ
اور نعیم
احمد
کھرل کا
مقابلہ
فنکشنل
مسلم لیگ
کے
امتیاز
احمد شیخ
کے ساتھ
تھا۔ پنو
عاقل کے
حلقہ این
اے 199
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
سید
خورشید
احمد شا ہ
نے بھاری
اکثریت
حاصل کی
جبکہ پی
ایس 03 سے
پیپلزپارٹی
کے
امیدوار
جام سیف
اللہ کو
برتری
حاصل ہے۔
سکرنڈ
میں پی پی
کے غلام
قادر
چانڈیو
نے 43537 جبکہ
ق لیگ کے
حفیظ انڑ
نے 10695 ووٹ
حاصل
کئے۔مٹیاری
اور حیدر
آباد کے
حلقہ این
اے 218سے
مخدوم
امین
فہیم نے 74ہزار
661ووٹ حاصل
کر کے
کامیابی
حاصل
کی۔پنجاب
اسمبلی
کے
انتخابات
کے رات
گئے تک
موصول
ہونیولے
نتائج کے
مطابق
صوبائی
اسمبلی
میں
پاکستان
مسلم لیگ (ن)
کو سبقت
حاصل ہے
جبکہ بعض
حلقوں
میں مسلم
لیگ (ق) اور
پیپلز
پارٹی کے
امیدوار
بھی
برتری
حاصل کئے
ہوئے ہیں۔
لاہور کے
اکثریتی
حلقوں
میں مسلم
لیگ (ن) کو
واضح
برتری
حاصل ہے
جبکہ
راولپنڈی
کے تمام
حلقوں
میں بھی (ن)
لیگ کو ہی
واضح
برتری
حاصل
ہے۔بلوچستان
میں رات
گئے تک 24
نشستوں
کانتیجہ
موصول
ہوا تھا
کامیاب
ہونے
والوں
میں سب سے
بڑی
تعداد
آزاد
امیدواروں
کی تھی
موصولہ
نتائج کے
مطابق
آزاد
امیدواروں
نے8
نشستیں
حاصل کیں ‘ق
لیگ نے چھ
جمعیت
علماء
اسلام نے
چارپیپلزپارٹی
نے دو اے
این پی دو
این پی پی
‘بی این پی
عوامی
اورہزارہ
ڈیموکریٹک
پارٹی نے
ایک ایک
نشست
حاصل کی ۔صوبہ
سرحد
اسمبلی
کے غیر
حتمی اور
غیر
سرکاری
نتائج کے
مطابق اے
این پی
کوبرتری
حاصل ہے۔
صبح چار
بجے تک
موصول
ہونے
والے
نتائج کے
مطابق
این اے 58
اٹک سے
چوہدری
پرویز
الٰہی،
بنوں سے
مولانا
فضل
الرحمن،
پشاور
این اے 4 سے
اے این پی
کے محمد
ظاہر
خان،
نوشہرہ
این اے 5 سے
پی پی پی
پی کے
محمد
طارق
خٹک، این
اے 6
نوشہرہ
سے اے این
پی کے
مسعود
عباس،
این اے 7
چارسدہ
سے اے این
پی کے
اسفندیار
ولی، این
اے 8
چارسدہ
سے پی پی
پی کے
آفتاب
احمد
شیرپاؤ،
این اے 14
کوہاٹ سے
اے این پی
کے پیر
دلاور
شاہ، این
اے 16 ہنگو
سے اے این
پی کے سید
حیدر علی
شاہ، این
اے 24 ڈی آئی
خان سے پی
پی پی پی
کے فیصل
کریم
کنڈی،
این اے 29
سوات سے
اے این پی
کے مظفر
ملک، این
اے 33 دیر
بالا سے
پی پی پی
پی کے نجم
الدین
خان، این
اے 34 دیر
پائین سے
پی پی پی
پی کے ملک
عظمت
خان، این
اے 35 مالا
کنڈ سے پی
پی پی پی
کے لعل
محمد
خان، این
اے 36
قبائلی
علاقے کے
آزاد
امیدوار
بلال
رحمان،
این اے 38
قبائلی
علاقے کے
آزاد
امیدوار
منیر خان
اورکزئی،
این اے 40
قبائلی
علاقے سے
آزاد
امیدوار
محمد
کامران
خان، این
اے 43
قبائلی
علاقے سے
آزاد
امیدوار
شوکت
اللہ،
ای |