Google
کراچی/اسلام آباد( اسٹاف رپورٹر+نمائندگان )پاکستان میں نویں پارلیمانی انتخابات کے لیے گذشتہ روز ہونے والی پولنگ کے نتیجے میں رات ساڑھے تین بجے تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ (ن) ،سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور سرحد میں اے این پی کی برتری سامنے آئی ہے اور (ق)لیگ کا صفایا ہو گیا،جبکہ کراچی میں متحدہ کو سبقت حاصل ہے،تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نے28، مسلم لیگ (ن)نے 22،مسلم لیگ(ق)نے8،متحدہ قومی موومنٹ نے17آزاد امیدواروں نے 10،اے این پی نے 6جبکہ پیپلز پارٹی شیر پاؤ نے ایک نشست حاصل کی،قومی اسمبلی میں پی پی نے32، (ن) لیگ نے 31،ایم کیو ایم نے17،آزاد امیدواروں نے 13، (ق)لیگ نے10،اے این پی نے 7جبکہ پی پی شیر پاؤ اور مجلس عمل نے ایک نشست جیتی ،کراچی سے فاروق ستار، خوش بخت شجاعت کامیاب ہو گئے،جبکہ پرویز الہی ، فضل الرحمن بھی اسمبلی میں پہنچ گئے۔دوسری جانب سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم نے37،پی پی نے35،ق لیگ نے5،ف لیگ نے 2،اے این پی نے 2اورنیشنل پیپلز پارٹی ایک نشست پر کامیاب ہوئی،پنجاب میں ن لیگ اورسرحد میں اے این پی نے برتری حاصل کی۔غیر سرکاری نتائج کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے فہیم احمد نے پی ایس 64میرپور خاص سے کامیابی حاصل کی انہوں نے32ہزار ووٹ حاصل کئے ،جبکہ ان کے حریف نوید بلند کو 14ہزار 25ووٹ ملے۔جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے شیخ صلاح الدین نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 244سے ایک لاکھ 47ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے 1990میں متحدہ کے ہی امیدوار محمد اسلم کے ایک لاکھ 43ووٹوں کا ریکارڈ توڑ دیا،شیخ صلاح الدین کا حلقہ واٹر پمپ ،فیڈرل بی ایریا ،نئی کراچی اور بفر زون پر مشتمل تھا۔متحدہ قومی موومنٹ کے ذرائع کے مطابق کراچی قومی اسمبلی کی 20نشستوں میں سے ایم کیو ایم کو 17نشستوں پر برتری حاصل ہے،فاروق ستار بھی اپنی نشست بھی جیت گئے ہیں ذرائع نے مزید بتایا کہ کراچی کی صوبائی کی 42نشستوں میں سے ایم کیو ایم کو 36نشستوں پر واضح بر تری حاصل ہے ،4نشستوں پر انہیں شکست ہوئی ہے اور 2نشستوں پر رات گئے تک گنتی کا عمل جاری تھا۔سکھر میں قومی اسمبلی کی 2اور صوبائی اسمبلی کی 4نشستوں پر پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدواروں نے آخری اطلاعات آنے تک مخالف امیدواروں پر نمایاں برتری قائم رکھی ہوئی تھی، این اے 198پر پیپلزپارٹی کے امیدوار نعمان اسلام شیخ کو 44ہزار 753جبکہ ان کے مقدمقابل مسلم لیگ(ق) کے سید طاہر حسین شاہ کو 10ہزار 395، این اے 199پر پیپلزپارٹی کے امیدوار سید خورشیداحمد شاہ نے 52ہزار جبکہ ان کے مقدمقابل مہرگروپ کے تاج محمد شیخ نے 16ہزار، پی ایس Iپر پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر نصراللہ بلوچ نے 27ہزار، ان کے مدمقابل متحدہ قومی موومنٹ کے سعید اقبال ملک نے 14ہزار، پی ایسIIIپر پیپلزپارٹی کے جام سیف اللہ دھاریجو نے 17ہزار 272جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ(ق) کے حاجی خان چاچڑ نے8 ہزار400، پی ایس IVپر پیپلزپارٹی کے سید جاوید شاہ نے 39ہزار 42ووٹ جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ فنکشنل کے سید زاہد شاہ نے 13ہزار351ووٹ حاصل کیے تھے، یہ تمام نتائج مختلف امیدواروں کے انتخابی دفاتر سے حاصل کیے گئے ہیں۔ تمام نشستوں پر ابھی بعض پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج آنا باقی تھے جبکہ سکھر میں آخری اطلاعات آنے تک کسی بھی نشست پر کامیاب امیدوار کا اعلان نہیں ہوسکا تھا۔ ضلع حیدرآباد کی 4 تحصیلوں کی 52 یونین کونسلوں پر مشتمل قومی اسمبلی کی 3 اور صوبائی اسمبلی کی 6 نشستوں میں سے متحدہ قومی موومنٹ کو 2 قومی اور 4 صوبائی اسمبلی کی نشستوں اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کو ایک قومی اسمبلی اور 2 صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر واضح اکثریت حاصل تھی۔پی ایس 86ٹھٹھہ 3پر مسلم لیگ (ق )شیرازی گروپ کے سید شاہ حسین شاہ چالیس ہزار چھ سو اڑسٹھ لے کر کامیاب ہو گئے ہیں اور ان کے مخالف امیدوار پی پی کے سید مسعود مصطفی شاہ نے اٹھائیس ہزار تیرانوے ووٹ حاصل کئے،حلقہ پی ایس 28نوابشاہ 5کے132پولنگ اسٹیشنوں میں سے 130پولنگ اسٹیشنوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی کے امیدوار سردار جام تماچی انٹرنے 28ہزار ووٹ جبکہ ان کے حریف ق لیگ کے امید وار ڈاکٹر بہادر ڈائری نے 11ہزار 47ووٹ حاصل کئے ۔نو شہرو فیروز حلقہ این اے 211سے نیشنل پیپلز پارٹی کے امیداوار غلام مصطفیٰ خان جتوئی نے 38ہزار 205ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کر لی ،غیر سرکاری نتائج کے مطابق ان کے مد مقابل ذوالفقار علی بیہن نے 7ہزار 669ووٹ حاصل کئے،این اے 232 دادو ون‘ ٹوٹل پولنگ اسٹیشن 256 میں 111 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج حاصل ہوئے ہیں۔جن کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار رفیق احمد جمالی نے 43 ہزار ووٹ لئے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ق) کے لیاقت جتوئی نے 13 ہزار ووٹ حاصل کئے ہیں۔ پی ایس 74 دادو ون‘ ٹوٹل پولنگ اسٹیشن 116 ہیں جن میں سے 85 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج موصول ہوئے ہیں‘ نتائج کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار پیرمظہرالحق نے 31 ہزار 47 ووٹ حاصل کئے جبکہ مسلم لیگ (ق) کے محمدشاہ نے 5 ہزار 747 ووٹ حاصل کئے۔ پی ایس 75 دادو ٹو‘ ٹوٹل پولنگ اسٹیشن 119 ہیں‘ 45 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج موصول ہوئے ہیں جس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار غلام شاہ جیلانی نے 16 ہزار 813 ووٹ حاصل کئے‘ مسلم لیگ (ق) کے امیدوار ڈاکٹر بندے علی لغاری نے 7 ہزار 874 ووٹ حاصل کئے ہیں۔ این اے 233 دادو ٹو‘ ٹوٹل پولنگ اسٹیشن 289 ہیں جس میں 171 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج ملے ہیں جس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار ڈاکٹر طلعت میہر نے 30 ہزار 995 ووٹ حاصل کئے جبکہ مسلم لیگ (ق) کے احسان علی جتوئی نے 20 ہزار 471 ووٹ حاصل کئے۔ پی ایس 77 دادو 4‘ 124 ٹوٹل پولنگ اسٹیشنوں میں سے 102 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج موصول ہوئے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار فیاض احمد بھٹ 30 ہزار 200 ووٹ اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے امیدوار صداقت علی جتوئی نے 16 ہزار ووٹ حاصل کئے ہیں۔ٹنڈوجام کیصوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 50 ٹنڈوجام سے پیپلزپارٹی کے نامزد امیدوار پیر امجد حسین شاہ جیلانی 55954 ووٹ حاصل کرکے پانچویں مرتبہ رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوگئے ہیں۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 221 پر پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار سیدامیر علی شاہ جاموٹ نے 121576 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کرلی ہے۔این اے 214 سکرنڈ میں پی پی پی کے امیدوار سید غلام مصطفی شاہ 84529 اور مسلم لیگ ق کے خان محمد ڈاہری نے 39575 ووٹ حاصل کئے،صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 66 میرپورخاص تھری کی نشست پر پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار میر حاجی حیات خان تالپور 42499 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوگئے۔ضلع بدین میں پی پی پی کلین سوئپ کے قریب آگئی ہے‘ اس سلسلے میں پی ایس 59 اور پی ایس 58 پر پی پی پی امیدواروں نے زبردست کامیابی حاصل کرلی جبکہ دیگر نشستوں پر بھی پی پی پی امیدواروں کو واضح اکثریت حاصل ہے۔ ضلع لاڑکانہ اور ضلع قمبر شہدادکوٹ میں قومی اسمبلی کی 4 اور صوبائی اسمبلی کی 8 نشستوں پر پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو واضح سبقت حاصل ہوگئی ہے اور رات گئے تک ملنے والے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی (شہید بھٹو) کی سربراہ غنویٰ بھٹو‘ سندھ نیشنل فرنٹ کے چیئرمین ممتازبھٹو کے صاحبزادے امیربخش بھٹو‘ ضلعی ناظم قمبر شہدادکوٹ نواب شبیراحمد چانڈیو کے دونوں صاحبزادے سردار خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو‘ سابق صوبائی وزیر حاجی الطاف انڑ اور سابق وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کے مشیر سلطان احمد کھاوڑ شکست سے دوچار ہوچکے ہیں۔ ضلع نوشہروفیروز کی قومی اسمبلی کی 2 اور صوبائی اسمبلی کی 5 نشستوں پر انتخابات مکمل ہوگئے ہیں اور آخری اطلاعات کے مطابق اس ضلع میں این اے 211 پر این پی پی کے امیدوار غلام مرتضیٰ‘ این اے 212 پر پی پی پی کے سید ظفرشاہ‘ پی ایس 19 پر عارف مصطفی جتوئی‘ این پی پی‘ پی ایس 20 پر پی پی پی کے عبدالحق بھرٹ‘ پی ایس 21 پر پی پی پی کے ڈاکٹر احمدعلی شاہ‘ پی ایس 22 پر پی پی پی کے ڈاکٹر عبدالستار راجپر اور پی ایس 23 پر این پی پی کے سرور احمد جتوئی بھاری اکثریت سے جیت رہے تھے۔پی ایس 85 ٹھٹھہ ٹو کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار سابق رکن صوبائی اسمبلی سسئی پلیجو نے دوبارہ اپنی نشست جیت لی ہے۔کشمور میں پی ایس 18 پر پاکستان مسلم لیگ (ق) کے امیدوار میر غالب حسین ڈومکی نے 28376 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کرلی۔ضلع نواب شاہ میں قومی اسمبلی کی 2/ ا ور صوبائی اسمبلی کی 4/ نشستوں پر پی پی پی کے امید وا روں کو مخالف امید واروں پر واضع سبقت حاصل ہے نو اب شاہ حلقہ این اے 213 نواب شاہ I کی کل 307 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 257/ پولنگ اسٹیشنوں کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کی امید و ار اور آصف زرداری کی بہن ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے 94103 ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے مدمقابل فنکشنل لیگ کے امیدوا ر سید زاہد حسین شاہ نے 38600 ووٹ حاصل کئے حلقہ این اے 214/ نواب شاہ 2کی 312 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 300/ پولنگ اسٹیشنوں کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پی پی پی کے امید وار سید غلام مصطفی شاہ نے 89210ووٹ جبکہ ان کے مخالف امید وار ق لیگ کے سردار خان محمد ڈاہری نے 41000 ووٹ حاصل کئے نواب شاہ کے حلقہ پی ایس 24 نوا ب شاہ پر ایم کیو ایم کے امید و ار عبدالرشید بھیا اور پیپلزپارٹی کے طا رق مسعود آرائیں کے درمیان ون ٹو ون مقابلہ جاری ہے حلقہ پی ایس 24 نواب شاہ 2/ کی کل 119/ پولنگ اسٹیشنوں میں سے 90/ پولنگ اسٹیشنوں کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پی پی پی کے احمد علی جلبانی نے 32200 ووٹ جبکہ ان کے مخالف مسلم لیگ ق کے امیدوا ر علی نو از بروہی نے 8500 ووٹ حاصل کئے حلقہ پی ایس نو اب شاہ 3 کی کل 130 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 85 پولنگ اسٹیشنوں کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پی پی پی کے امید وار سید فصیح احمد شاہ نے 22056 ووٹ جبکہ ان کے مدمقابل ق لیگ کے امیدوار ممتاز علی جمالی نے 12113 ووٹ حاصل کئے حلقہ پی ایس 27 نواب شاہ 4 کے 126 پولنگ اسٹیشنوں میں 115 پولنگ اسٹیشنوں کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار غلام قا در چانڈیو نے 43537ووٹ ان کے مخالف ق لیگ کے امیدوار عبدالحفیظ انڑ نے 10695 ووٹ حاصل کئے۔ دادو میں پی ایس 74 کی نشست پر پی پی کے امیدوار پیر مظہر الحق نے 31 ہزار 47 ووٹ حاصل کئے جبکہ ق لیگ کے محمد شاہ نے 5 ہزار 774 ووٹ حاصل کئے۔ دادو میں پی ایس 75 کی نشست پر پی پی کے امیدوار غلام شاہ جیلانی 16 ہزار 831 ووٹ حاصل کئے۔ دادو میں این اے 233 کی نشست پر پی پی کے امیدوار ڈاکٹر طلعت مہیسر نے 30 ہزار 995ووٹ حاصل کئے جبکہ ق لیگ کے احسان علی جتوئی نے 20 ہزار 471 ووٹ حاصل کئے۔ دادو میں پی ایس 77 میں پی پی کے امیدوار فیاض احمد بھٹ نے 30 ہزار 200 ووٹ لئے جبکہ ق لیگ کے صداقت علی جتوئی نے 16 ہزار ووٹ حاصل کئے۔ ٹنڈو جام میں پی ایس 50 میں پی پی کے امیدوار امجد حسین شاہ جیلانی 55 ہزار 954 ووٹ لئے جبکہ ق لیگ کے امیدوار میر شیر محمد تالپور نے 5 ہزار 4سو ووٹ حاصل کئے۔ ٹنڈو جام میں این اے 221 پر پی پی کے امیدوار امیر علی شاہ جاموٹ نے ایک لاکھ21 ہزار 576 ووٹ جبکہ ق لیگ کے امیدوار شہاب الدین شاہ نے 36 ہزار ووٹ حاصل کئے۔ سکرنڈ میں این اے 214 پر پی پی کے سید غلام مصطفی شاہ نے 84 ہزار 529 ووٹ جبکہ ق لیگ کے خان محمد ڈاہری نے 39 ہزار 575 ووٹ حاصل کئے۔ میر پور خاص میں پی ایس 66 پر پی پی کے امیدوار حاجی حیات خان تالپور 42 ہزار 449 ووٹ جبکہ ق لیگ کے میر وقار تالپور نے 12 ہزار 162 ووٹ حاصل کئے۔ بدین میں پی پی کلین سوئیپ کے قریب آگئی۔ پی ایس 59 پر نواز چانڈیو کی جانب سے 23 ہزار 90 ووٹ حاصل کرنے پر پی پی کی کامیابی کی خوشی میں بدین کے مختلف حلقوں میں ریلیاں نکالی گئیں۔ پی ایس 58 پر پی پی کے ڈاکٹر سکندر مندھرو نے 48 ہزار 44 ووٹ حاصل کئے اور اپنے مخالف امیدوار سائیں بخش جمالی کی ضمانت ضبط کرادی۔ این اے 225 سے پی پی کی بیگم فہمیدہ مرزا نے ق لیگ کی بی بی یاسمین شاہ پر واضح اکثریت حاصل کی ہوئی تھی۔ لاڑکانہ میں این اے 204 پر پی پی کے امیدوار شاہد بھٹو 56 ہزار 359 ووٹ حاصل کرکے غنویٰ بھٹو پر واضح اکثریت حاصل کرچکے ہیں۔ نوشہرو فیروز میں این اے 211 پر این پی پی کے امیدوار غلام مرتضیٰ این اے 212 پر سید ظفر شاہ، پی ایس 19 پر عارف مصطفیٰ جتوئی، پی ایس 20 پر عبدالحق بُھرٹ، پی ایس 21 پر احمد علی شاہ، پی ایس 22 پر ڈاکٹر ستار راجپر اور پی ایس 23 پر سرور احمد جتوئی بھاری اکثریت سے جیت رہے تھے۔ کشمور میں ق لیگ کے غالب حسین ڈومکی نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ کراچی کے حلقے این اے 248میں پیپلز پارٹی کے نبیل گبول 96ہزار ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہو گئے ان کے مد مقابل متحدہ قومی موومنٹ کے وصی اللہ لاکھو نے4ہزار 6سو ووٹ حاصل کئے،ٹنڈو محمد خان NA-222 سے پیپلزپارٹی کے امیدوار سید نوید قمر نے 230/ پولنگ اسٹیشنوں میں سے 96/ پولنگ اسٹیشنز میں سے 40134/ ووٹ حاصل کئے ہیں ان کے مقابلہ میں مسلم لیگ (ق) کے پیر سجاد ج ان سرہن دی نے 10032 ووٹ حاصل کئے۔ِPS-53 پیپلزپارٹی کے امیدوار سید محسن شاہ بخاری نے 37/ پولنگ اسٹیشنوں میں 15273 جبکہ مس لم لیگ (ق) کے امید وار م یر علی نواز ٹالپر نے 4397 ووٹ حاصل کئے۔خیرپور میں این اے 215کے پیپلزپارٹی کے امیدوار ن واب خان وسان، پی ایس 29 کے پیپلزپارٹی کے امیدو ار سید قائم علی شا ہ، پی ایس 32 کے پیپلزپارٹی کے امیدوار منظور حسین وسان، پی ایس 33 کے پیپلزپارٹی کے امیدوار پیر احمد رضا شاہ اور پی ایس 34 کے پیپلزپارٹی کے امیدوار نعیم احمد کھرل بھاری اکثریت سے جیت رہے تھے، نو اب خان وسان کا مقابلہ فنکشنل مسلم لیگ کے سید جاوید علی شاہ کے ساتھ، سید قائم علی شاہ کا مقابلہ فنکشنل مسلم لیگ کے ظفر اقبال بلال، منظور حسین وسان کا مقابلہ فن کشنل مسلم لیگ کے پیر صدرالدین شاہ، پیر احمد رضا شاہ کا مقابلہ فنکشنل مسلم لیگ کے پیر فیاض حسین شاہ اور نعیم احمد کھرل کا مقابلہ فنکشنل مسلم لیگ کے امتیاز احمد شیخ کے ساتھ تھا۔ پنو عاقل کے حلقہ این اے 199 پیپلزپارٹی کے امیدوار سید خورشید احمد شا ہ نے بھاری اکثریت حاصل کی جبکہ پی ایس 03 سے پیپلزپارٹی کے امیدوار جام سیف اللہ کو برتری حاصل ہے۔ سکرنڈ میں پی پی کے غلام قادر چانڈیو نے 43537 جبکہ ق لیگ کے حفیظ انڑ نے 10695 ووٹ حاصل کئے۔مٹیاری اور حیدر آباد کے حلقہ این اے 218سے مخدوم امین فہیم نے 74ہزار 661ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے رات گئے تک موصول ہونیولے نتائج کے مطابق صوبائی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو سبقت حاصل ہے جبکہ بعض حلقوں میں مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کے امیدوار بھی برتری حاصل کئے ہوئے ہیں۔ لاہور کے اکثریتی حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری حاصل ہے جبکہ راولپنڈی کے تمام حلقوں میں بھی (ن) لیگ کو ہی واضح برتری حاصل ہے۔بلوچستان میں رات گئے تک 24 نشستوں کانتیجہ موصول ہوا تھا کامیاب ہونے والوں میں سب سے بڑی تعداد آزاد امیدواروں کی تھی موصولہ نتائج کے مطابق آزاد امیدواروں نے8 نشستیں حاصل کیں ‘ق لیگ نے چھ جمعیت علماء اسلام نے چارپیپلزپارٹی نے دو اے این پی دو این پی پی ‘بی این پی عوامی اورہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے ایک ایک نشست حاصل کی ۔صوبہ سرحد اسمبلی کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق اے این پی کوبرتری حاصل ہے۔ صبح چار بجے تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق این اے 58 اٹک سے چوہدری پرویز الٰہی، بنوں سے مولانا فضل الرحمن، پشاور این اے 4 سے اے این پی کے محمد ظاہر خان، نوشہرہ این اے 5 سے پی پی پی پی کے محمد طارق خٹک، این اے 6 نوشہرہ سے اے این پی کے مسعود عباس، این اے 7 چارسدہ سے اے این پی کے اسفندیار ولی، این اے 8 چارسدہ سے پی پی پی کے آفتاب احمد شیرپاؤ، این اے 14 کوہاٹ سے اے این پی کے پیر دلاور شاہ، این اے 16 ہنگو سے اے این پی کے سید حیدر علی شاہ، این اے 24 ڈی آئی خان سے پی پی پی پی کے فیصل کریم کنڈی، این اے 29 سوات سے اے این پی کے مظفر ملک، این اے 33 دیر بالا سے پی پی پی پی کے نجم الدین خان، این اے 34 دیر پائین سے پی پی پی پی کے ملک عظمت خان، این اے 35 مالا کنڈ سے پی پی پی پی کے لعل محمد خان، این اے 36 قبائلی علاقے کے آزاد امیدوار بلال رحمان، این اے 38 قبائلی علاقے کے آزاد امیدوار منیر خان اورکزئی، این اے 40 قبائلی علاقے سے آزاد امیدوار محمد کامران خان، این اے 43 قبائلی علاقے سے آزاد امیدوار شوکت اللہ، ای