| کراچی
( اسٹاف
رپورٹر)
سینیٹ کی
قائمہ
کمیٹی
برائے کھیل
ہفتے کو پی
سی بی کے
چیئرمین
ڈاکٹر نسیم
اشرف اور
پاکستان
کرکٹ ٹیم کی
کارکردگی
کا جائزہ لے
گی۔ جنگ کو
حددرجہ
مصدقہ
ذرائع سے
معلوم ہوا
ہے کہ بورڈ
کے مالی
معاملات
میں سنگین
نوعیت کی بے
قاعدگیاں
سامنے آئی
ہیں۔
انٹرنل
آڈیٹر نے
ایک خط کے
ذریعے مالی
بے
ضابطگیوں
کا انکشاف
کیا ہے جبکہ
یہ مطالبہ
زور پکڑتا
جا رہا ہے کہ
ایکسٹرنل
آڈیٹر کا
تقررکرکے
پی سی بی کے
مالی
معاملات کا
آڈٹ کرایا
جائے۔
پیپلز
پارٹی سے
تعلق رکھنے
والے
سینیٹر
انور بیگ نے
جنگ کو
بتایا کہ
ہفتے کے
اجلاس میں
اس بات کا
جائزہ لیا
جائے گا کہ
اکتوبر 2006ء
سے اب تک
ڈاکٹر نسیم
اشرف کی
کارکردگی
کیا رہی ہے۔
ان کے دور
میں
پاکستان
ٹیم کی
کارکردگی
میں کیوں کر
زوال آیا ہے۔
ذرائع کے
مطابق اس
وقت بورڈ کے
ملازمین کی
تعداد 700 سے
زائد ہے،
جنہیں
ماہانہ
ڈیڑھ کروڑ
روپے کی
تنخواہ کی
مد میں
ادائیگی کی
جا رہی ہے۔
مالی بے
ضابطگیوں
کا اندازہ
اس بات سے
لگایا
جاسکتا ہے
کہ بدھ کو پی
سی بی کے
سینئر جنرل
مینجر
فنانس نے
اپنے عہدے
سے استعفیٰ
دے دیا۔
بورڈ کا
خزانہ اس
قدر تیزی سے
خالی ہو رہا
ہے، اس کا
اندازہ اس
بات سے
لگایا
جارہا ہے کہ
بایو
مکینکس کے
نام پر
لاکھوں
روپے خرچ ہو
رہے
ہیں۔گزشتہ
دنوں سینئر
جنرل منیجر
اکیڈمی علی
ضیاء نے ایک
اور منیجر
کے ساتھ
آسٹریلیا
کا دورہ کیا۔
اب یہ تجویز
زیر غور ہے
کہ علی ضیاء
کو لیول
تھری کوچنگ
کورس کے لیے
آسٹریلیا
بھیجا جائے۔
کورس کی فیس
پانچ ہزار
ڈالرز پی سی
بی ادا کرے
گا۔ ذرائع
کے مطابق
انٹرنل
آڈیٹر نے
ایک خط کے
ذریعے پی سی
بی کے
چیئرمین
ڈاکٹر نسیم
اشرف کی
توجہ اس
جانب دلائی
ہے کہ چیف
آپریٹنگ
آفیسر، چیف
فنانشل
آفیسر،
ڈائریکٹر
ہیومن
ریسورس اور
ڈائریکٹر
مارکیٹنگ
کی
تنخواہوں
کا ذکر پے
رول میں
نہیں ہے۔
ذرائع کے
مطابق چیف
آپریٹنگ
آفیسر جن کی
قومی
اسمبلی کو
تنخواہ 38
ہزار بتائی
گئی، تمام
مراعات کو
ملا کر وہ
ماہانہ
ساڑھے سات
لاکھ روپے
لے رہے ہیں۔
بورڈ کے
حسابات کے
مطابق تین
گاڑیاں ان
کے زیر
استعمال
ہیں۔گزشتہ
ماہ ان کا
پیٹرول بل70
ہزار روپے
تھا۔ دلچسپ
بات یہ ہے کہ
چند ہفتے
قبل سینیٹ
کو چیف
آپریٹنگ
آفیسرکی
تنخواہ
ساڑھے چار
لاکھ روپے
بتائی گئی
تھی۔ ذرائع
کے مطابق پے
رول میں ہر
افسرکا نام
عہدہ اور
تنخواہ
ہوتی ہے
لیکن
مذکورہ چار
افسران کا
تذکرہ پے
رول میں
نہیں ہے۔ اس
بارے میں
چیف
آپریٹنگ
آفیسر شفقت
نغمی نے جنگ
کو بتایا کہ
انٹرنل
آڈیٹر نے خط
ضرور
تحریرکیا
تھا لیکن ان
کا اعتراض
بلا وجہ ہے،
ہم نے ان
کوکہا کہ وہ
یہ سب کیوں
جاننے کی
کوشش کر رہے
ہیں، انہوں
نے کہا کہ
چاروں
افسران کے
نام پے رول
پر ہیں۔
تنخواہوں
کی فہرست ہم
نے سینیٹ کو
پہلے ہی دے
دی تھی۔
ذرائع کے
مطابق
مسلسل
بگڑتی ہوئی
صورتحال کی
وجہ سے
ڈاکٹر نسیم
اشرف میڈیا
سے بات کرنے
سے گریزکر
رہے
ہیں۔گزشتہ
دنوں انہوں
نے کراچی کے
ون ڈے اور
ٹوئنٹی 20
میچوں کے
دوران
اخبار
نویسوں کا
سامنا نہیں
کیا۔ وہ یہ
کہہ کر باہر
نہ آئے کہ
میں
مہمانوں کے
ساتھ مصروف
ہوں۔ |