| کراچی
............. مسلم لیگ (ن)
کے رہنماء
جاوید
ہاشمی نے
کہا کہ جج
بحال ہونگے
اور انہیں
مقدمات ری
اوپن کرنے
کا بھی
اختیار
حاصل ہو
گا،سینیر
صحافی مجیب
الرحمن
شامینے کہا
کچھ ایسے
اشارے مل
رہے ہیں کہ
پرویز مشرف
ایک بار پھر
فوج کو
استعمال
کرسکتے ہیں
، اگر ایسا
ہوا تو یہ
ملک کی بہت
بڑی
بدقسمتی
ہوگی۔پی پی
کے رہنما ء
رضاربانی
نے کہا کہ 18فروری
کو الیکشن
نہیں، صدر
کیخلاف
ریفرنڈم
تھا،سابق
چیف جسٹس
رانا
بھگوان داس
نے کہا کہ
روزِ اوّل
سے ججوں کی
بحالی میں
رکاوٹیں
پیدا کرنے
والے موجود
ہیں۔اِن
خیالات کا
اظہار
اُنہوں نے
جیو نیوز کے
پروگرام ”کیپٹل
ٹاک“ میں
میزبان
حامد میر سے
ٹیلیفون پر
گفتگو کرتے
ہوئے کیا ۔پروگرام
میں شریک
مسلم لیگ( ن)
کے مرکزی
رہنما اور
ممبر قومی
اسمبلی
جاوید
ہاشمی نے
کہا میں
پرویز مشرف
کے دیئے
ہوئے سسٹم
کے خلاف ہوں
اور یہی وجہ
ہے کہ میں
ایسی وزارت
نہیں لینا
چاہتا تھا،
جس کے بدلے
مجھے پرویز
مشرف سے حلف
لینا پڑے ۔
جب تک معزول
جج بحال اور
پارلیمنٹ
بامعنی
نہیں ہو
جاتی، اس
وقت تک
وزارت لینا
بے معنی ہے۔
آج پرویز
مشرف
تنہائی کا
شکار ہیں، (ق)
لیگ بکھر
چکی ہے،
پرویز مشرف
کیلئے
امریکی
طاقت ختم
ہوتی جارہی
ہے۔ وہ
پارٹیاں جو
ماضی میں
ایک دوسرے
کی متحارب
رہیں، آج
ایک دوسرے
کی حلیف ہیں۔
ایک آدمی 16
کروڑ لوگوں
سے جنگ نہیں
جیت سکتا،
پرویز مشرف
جتنی جلدی
اپنی شکست
تسلیم
کرلیں اُن
کیلئے بہتر
ہوگا۔ اُن
کا کہنا تھا
کہ اس ملک کی
دلچسپ بات
یہ ہے
پارلیمنٹ
بھی موجود
ہے اور
پارلیمنٹ
کو قتل کرنے
والا بھی
موجود ہے ۔
ایک سوال پر
اُن کا کہنا
تھا کہ
معزول جج
بحال ہوں گے
اور اُن
ججوں کو
ماضی کے
فیصلے ری
اوپن کرنے
کا حق حاصل
ہوگا، بحال
شدہ جج جو
بھی فیصلہ
کریں گے،
اُنہیں
کھلے دِل سے
تسلیم کیا
جائے گا۔
جاوید
ہاشمی نے
کہا کہ میں
جب بھی
پارلیمنٹ
میں جاتا
ہوں، وہاں
محترمہ بے
نظیر بھٹو
کی کمی شدت
سے محسوس
کرتا ہوں ۔معروف
دانش ور
مجیب
الرحمن
شامی نے کہا
کہ اب ایسی
صورتحال
موجود نہیں
کہ اس اقدام
سے لوگ
گھروں میں
بیٹھے رہیں
، اگر ایسا
ہوا تو عوام
سڑکوں پر
آئیں گے اور
پھر ٹکراؤ
کی صورتحال
پیدا ہو
جائے گی جو
ملک کیلئے
خطرناک
ثابت
ہوسکتی ہے۔
اُنہوں نے
کہا کہ
ایوان صدر
ججوں کی
بحالی میں
کوئی رکاوٹ
نہیں ڈال
سکتا،
پاکستانی
فوج نے خود
کو سیاست سے
الگ کر لیا
ہے، اب فوج
کا پرویز
مشرف سے
کوئی تعلق
نہیں رہا ۔
پارلیمنٹ
خود مختار
ادارہ ہے
اگر وہ ججوں
کی بحالی
چاہے تو
اُنہیں
بحال
کرسکتی ہے۔
اُنہوں نے
کہا کہ فوج
اگر مشرف کا
ساتھ دے گی
تو اپنی
ساکھ کو داؤ
پر لگائے گی
اور عوام
فوج کے خلاف
ہو جائیں
گے، پرویز
مشرف کا اب
کوئی
مستقبل
نہیں ، وہ
جتنی
دیراقتدار
میں رہیں
گے، اپنی
ساکھ خراب
کرتے جائیں
گے۔ سینیٹ
میں قائد
حزب ایوان
رضاربانی
نے کہا کہ
گزشتہ
پارلیمنٹ
ربڑ اسٹیمپ
تھی، جس میں
ایک شخص ہی
فیصلے کرتا
تھا ، میرے
لئے یہ
مناسب نہیں
کہ جس شخص کی
پالیسیوں
کی مخالفت
کی، اُسی سے
حلف لوں۔ 18/فروری
کا فیصلہ
الیکشن
نہیں
ریفرنڈم
تھا اور
عوام نے
کھلے دِل سے
فیصلہ دیا
ہے کہ جنرل
مشرف کی
پالیسیاں
ناقابل
قبول
ہیں،ہم اس
مینڈیٹ کے
ساتھ آئے
ہیں کہ اس
نظام کو
تبدیل
کردیں گے۔
ایک سوال پر
اُنہوں نے
کہا کہ ججوں
کی بحالی
کیلئے
بنائی جانے
والی کمیٹی
اعلان مری
سے متصادم
نہیں ہے،
ججوں کی
بحالی
بظاہر سادہ
مسئلہ نظر
آتا ہے جبکہ
اِس میں بہت
سی قانونی
پیچیدگیاں
موجود ہیں۔
ایک سوال پر
اُنہوں نے
کہا کہ ہم
پہلے بھی
کہہ چکے ہیں
کہ اٹارنی
جنرل کو
مستعفی ہو
جانا چاہئے
تھا لیکن
اٹارنی
جنرل کو
سیاست کا
شوق ہے تو وہ
سیاست کے
میدان میں
ہم سے
مقابلہ
کریں ۔
ٹیلیفون پر
گفتگو کرتے
ہوئے سابق
چیف جسٹس
رانا
بھگوان داس
نے کہا کہ
موجودہ
عدلیہ
پارلیمنٹ
کی قرار داد
کے خلاف
کوئی رکاوٹ
پیدا نہیں
کرسکتی ۔
اُن کا کہنا
تھا کہ روز
اوّل سے
ججوں کی
بحالی میں
رکاوٹیں
پیدا کرنے
والے موجود
ہیں اور وہ
ججوں کی
بحالی میں
رکاوٹیں
کھڑی کرتے
رہے ہیں
لیکن وہ
اپنے اہداف
حاصل نہیں
کرسکیں گے۔
جب اُن سے یہ
سوال کیا
گیا کہ
معزول جج
بحال ہوکر
پرویز مشرف
کیس کو ری
اوپن کریں
گے ؟ جس کے
جواب میں
رانا
بھگوان داس
نے کہا کہ فی
الحال اِس
کا حتمی
جواب نہیں
دیا جاسکتا۔ |